Exploring the Art of Living Well

Blog ورلڈ پیشنٹ سیفٹی ڈے 2026: مریضوں کی حفاظت اور غیر متعدی امراض میں محفوظ علاج
ورلڈ پیشنٹ سیفٹی ڈے

ورلڈ پیشنٹ سیفٹی ڈے 2026: مریضوں کی حفاظت اور غیر متعدی امراض میں محفوظ علاج

Share:

ہر سال 17 ستمبر کو دنیا بھر میں ورلڈ پیشنٹ سیفٹی ڈے (World Patient Safety Day) منایا جاتا ہے۔ یہ دن عالمی ادارہ صحت (WHO) کی جانب سے 2019 میں شروع کیا گیا تھا تاکہ دنیا بھر میں مریضوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے آگاہی پیدا کی جا سکے۔ صحت کی دیکھ بھال کے دوران ہونے والی غلطیاں، غیر ضروری نقصانات اور ناکافی حفاظتی اقدامات کی وجہ سے ہر سال لاکھوں افراد متاثر ہوتے ہیں، اور اسی وجہ سے یہ عالمی دن بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ 2026 میں یہ دن جمعرات، 17 ستمبر کو منایا جائے گا اور یہ اس عالمی مہم کا ساتواں سال ہوگا۔

ورلڈ پیشنٹ سیفٹی ڈے کی تاریخ اور پس منظر

ورلڈ پیشنٹ سیفٹی ڈے کا آغاز اصل میں جرمنی کے ادارے “Aktionsbündnis Patientensicherheit” (APS) یعنی جرمن کولیشن فار پیشنٹ سیفٹی کی کوششوں سے ہوا، جس نے سب سے پہلے مریضوں کی حفاظت کے لیے ایک مخصوص عالمی دن کی ضرورت پر زور دیا۔ 2019 میں عالمی ادارہ صحت نے باضابطہ طور پر 17 ستمبر کو ورلڈ پیشنٹ سیفٹی ڈے کے طور پر تسلیم کیا اور تب سے ہر سال ایک نیا موضوع منتخب کیا جاتا ہے تاکہ صحت کے نظام میں موجود کسی خاص چیلنج کو اجاگر کیا جا سکے۔ گزشتہ برسوں میں مختلف موضوعات پر توجہ دی گئی، مثال کے طور پر 2025 میں “Safe care for every newborn and every child” یعنی نوزائیدہ بچوں اور بچوں کے لیے محفوظ علاج کا موضوع منتخب کیا گیا تھا، جس کا نعرہ “Patient safety from the start!” تھا۔ اس سے پہلے کے سالوں میں ادویات کی حفاظت، تشخیصی غلطیوں کی روک تھام اور جراحی کے دوران حفاظت جیسے موضوعات پر بھی خصوصی مہمات چلائی گئیں۔ ہر سال کا موضوع دراصل ایک سٹیئرنگ کمیٹی کی سفارشات اور دنیا بھر کے ماہرین کی رائے کی بنیاد پر طے کیا جاتا ہے، تاکہ عالمی سطح پر صحت کے نظام کی سب سے اہم ضروریات پر توجہ مرکوز کی جا سکے۔ اسی روایت کے تحت 2026 کا موضوع غیر متعدی امراض کے مریضوں کی حفاظت پر مرکوز کیا گیا ہے، کیونکہ دنیا بھر میں ان بیماریوں کی شرح اور ان سے ہونے والی اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
ورلڈ پیشنٹ سیفٹی ڈے کی تاریخ اور پس منظر

ورلڈ پیشنٹ سیفٹی ڈے 2026 کا موضوع اور نعرہ

اس سال کا مرکزی موضوع “Safe care for noncommunicable diseases” یعنی “غیر متعدی امراض کے لیے محفوظ علاج” رکھا گیا ہے، جبکہ عالمی نعرہ “Safe care for life!” یعنی “زندگی بھر کے لیے محفوظ علاج!” منتخب کیا گیا ہے۔ یہ موضوع 2025 کی سٹیئرنگ کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر چنا گیا، جس میں اس بات کو تسلیم کیا گیا کہ غیر متعدی امراض (NCDs) میں مبتلا افراد کو طویل مدتی اور مسلسل نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے، جو انہیں صحت کے نظام میں بار بار مختلف سطحوں پر لے جاتی ہے اور اسی وجہ سے حفاظتی خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

غیر متعدی امراض (NCDs) کیا ہیں اور یہ اتنے اہم کیوں ہیں؟

غیر متعدی امراض وہ بیماریاں ہیں جو ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل نہیں ہوتیں، بلکہ جینیاتی، ماحولیاتی اور طرزِ زندگی کے عوامل کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ ان میں شامل ہیں:

  • دل کی بیماریاں (ہارٹ اٹیک اور فالج)
  • کینسر
  • سانس کی دائمی بیماریاں (جیسے دمہ اور COPD)
  • ذیابیطس

یہ بیماریاں دنیا بھر میں اموات کی سب سے بڑی وجہ بن چکی ہیں۔ عالمی سطح پر تقریباً 74 فیصد اموات انہی غیر متعدی امراض کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ ان مریضوں کو اکثر برسوں بلکہ زندگی بھر مسلسل علاج، نگرانی اور مختلف طبی مراکز سے رجوع کرنے کی ضرورت پڑتی ہے، جس کی وجہ سے علاج کے دوران غلطیوں اور نقصان کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

مریضوں کی حفاظت کیوں ضروری ہے؟

عالمی ادارہ صحت کی رپورٹس کے مطابق ہر 10 میں سے 1 مریض صحت کی دیکھ بھال کے دوران کسی نہ کسی نقصان کا شکار ہوتا ہے، اور اس نقصان کا تقریباً نصف حصہ قابلِ روک تھام ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مناسب حفاظتی نظام، تربیت یافتہ عملہ اور بہتر پالیسیاں موجود ہوں تو لاکھوں افراد کو غیر ضروری تکلیف اور جانی نقصان سے بچایا جا سکتا ہے۔

غیر متعدی امراض میں مبتلا مریضوں کے لیے یہ خطرہ اور بھی زیادہ ہوتا ہے کیونکہ ان کا علاج:

  • طویل عرصے پر محیط ہوتا ہے
  • مختلف ڈاکٹروں اور اسپتالوں کے درمیان منتقل ہوتا رہتا ہے
  • متعدد ادویات کے استعمال پر مشتمل ہوتا ہے
  • تشخیص میں تاخیر یا غلطی کا زیادہ امکان رکھتا ہے

ورلڈ پیشنٹ سیفٹی ڈے 2026 کے مقاصد

عالمی ادارہ صحت نے اس سال کی مہم کے لیے درج ذیل بنیادی مقاصد مقرر کیے ہیں:

عالمی آگاہی میں اضافہ: غیر متعدی امراض کے مریضوں کو درپیش حفاظتی چیلنجز کے بارے میں دنیا بھر میں شعور اجاگر کرنا، خاص طور پر بنیادی صحت کی دیکھ بھال کے نظام کے تناظر میں۔

مریضوں کی بامعنی شمولیت: غیر متعدی امراض کے شکار افراد اور ان کی برادریوں کو، صحت کے کارکنوں، اداروں کے قائدین اور پالیسی سازوں کے ساتھ مل کر حفاظتی خطرات کی نشاندہی اور حل تلاش کرنے میں شریک کرنا۔

پالیسیوں میں حفاظت کا انضمام: حکومتی قوانین، پالیسیوں اور غیر متعدی امراض کے پروگراموں میں مریضوں کی حفاظت کے اصولوں کو شامل کرنا۔

صحت کے کارکنوں کی معاونت: ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر طبی عملے کو بہتر تشخیص، ادویات کی حفاظت اور مریضوں کے ساتھ مؤثر رابطے جیسے شعبوں میں مضبوط کرنا۔

علامتی رنگ: نارنجی روشنیوں کی اہمیت

ورلڈ پیشنٹ سیفٹی ڈے کی ایک منفرد روایت یہ ہے کہ 17 ستمبر کو دنیا بھر کی مشہور عمارتیں، یادگاریں اور عوامی مقامات نارنجی رنگ کی روشنیوں سے سجائے جاتے ہیں۔ یہ روشنیاں مریضوں کی حفاظت کے عالمی عزم اور یکجہتی کی علامت ہیں۔ 2026 میں جنیوا کا مشہور فوارہ “Jet d’Eau” بھی اس عالمی مہم کے تحت روشن کیا جائے گا۔ دنیا بھر کے اسپتال، طبی ادارے اور حکومتیں اس دن مختلف تقریبات، آگاہی مہمات، پالیسی مکالموں اور کمیونٹی پروگراموں کا انعقاد کرتی ہیں۔

غیر متعدی امراض کے مریضوں کو درپیش مخصوص حفاظتی خطرات

غیر متعدی امراض کے مریضوں کا علاج عام بیماریوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے، اور اسی پیچیدگی کی وجہ سے کئی مخصوص خطرات جنم لیتے ہیں۔

  • سب سے پہلا خطرہ تشخیص میں تاخیر یا غلطی کا ہے۔ چونکہ ذیابیطس، دل کی بیماریاں اور کینسر جیسے امراض کی علامات ابتدا میں معمولی نظر آتی ہیں، اس لیے اکثر مریض بروقت تشخیص سے محروم رہ جاتے ہیں، جس سے بیماری بڑھ جاتی ہے اور علاج مشکل ہو جاتا ہے۔
  • دوسرا بڑا خطرہ ادویات کی حفاظت سے متعلق ہے۔ دائمی بیماریوں میں مبتلا مریض اکثر ایک وقت میں کئی مختلف ادویات استعمال کرتے ہیں، جسے طبی اصطلاح میں “پولی فارمیسی” کہا جاتا ہے۔ اگر ان ادویات کے تعامل (interaction) پر نظر نہ رکھی جائے تو یہ مریض کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح خوراک میں غلطی، وقت پر دوا نہ لینا یا دو ڈاکٹروں کی طرف سے متضاد ادویات تجویز ہونا بھی عام مسائل ہیں۔
  • تیسرا خطرہ دیکھ بھال میں تسلسل کی کمی ہے۔ ایک ہی مریض کو مختلف اوقات میں مختلف ڈاکٹروں، اسپتالوں اور کلینکس سے رجوع کرنا پڑتا ہے، اور اگر ان کے درمیان معلومات کا تبادلہ درست طریقے سے نہ ہو تو علاج میں تضاد پیدا ہو سکتا ہے۔ چوتھا اہم پہلو ذہنی صحت اور جذباتی سہارے کا فقدان ہے، کیونکہ دائمی بیماری کے ساتھ زندگی گزارنا مریض اور اس کے اہلِ خانہ دونوں کے لیے ذہنی دباؤ کا باعث بنتا ہے، اور اکثر صحت کے نظام میں اس پہلو کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔

  • آخر میں، معاشی رکاوٹیں بھی ایک بڑا مسئلہ ہیں۔ طویل مدتی علاج کے اخراجات، مہنگی ادویات اور بار بار ٹیسٹ کروانے کی ضرورت بہت سے مریضوں کو علاج ادھورا چھوڑنے پر مجبور کر دیتی ہے، جو خود ایک سنگین حفاظتی خطرہ بن جاتا ہے۔

    پاکستان میں مریضوں کی حفاظت کی صورتحال

    پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں غیر متعدی امراض تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ذیابیطس، دل کی بیماریاں اور ہائی بلڈ پریشر جیسے امراض میں مبتلا افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے میں صحت کے نظام پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے، اور اسپتالوں میں وسائل کی کمی، تربیت یافتہ عملے کی قلت اور بروقت تشخیص کے فقدان جیسے مسائل مریضوں کی حفاظت کو مزید مشکل بنا دیتے ہیں۔

    اس صورتحال میں ضروری ہے کہ:

    • بنیادی صحت مراکز کو مضبوط کیا جائے
    • ادویات کی درست تجویز اور استعمال کو یقینی بنایا جائے
    • مریضوں کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل اور محفوظ بنایا جائے
    • عوام میں غیر متعدی امراض سے بچاؤ اور بروقت تشخیص کے بارے میں آگاہی پھیلائی جائے

    مریض خود اپنی حفاظت کیسے یقینی بنا سکتے ہیں؟

    مریضوں کی حفاظت صرف ڈاکٹروں یا اسپتالوں کی ذمہ داری نہیں، بلکہ مریض خود بھی کئی طریقوں سے اس میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں:

    اپنی بیماری، ادویات اور علاج کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کریں اور ڈاکٹر سے کھل کر سوالات پوچھیں۔ ہر دوا کی خوراک اور وقت کو صحیح طریقے سے نوٹ کریں تاکہ غلطی کا امکان کم سے کم ہو۔ اپنی طبی تاریخ، الرجی اور پہلے سے چل رہی ادویات کے بارے میں ہر نئے ڈاکٹر کو ضرور بتائیں۔ اگر کسی بھی مرحلے پر شک یا الجھن محسوس ہو تو دوسری رائے (second opinion) لینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔ باقاعدہ چیک اپ اور فالو اپ اپائنٹمنٹس کو نظرانداز نہ کریں، خاص طور پر جب بیماری دائمی نوعیت کی ہو۔

    صحت کے کارکنوں اور اداروں کا کردار

    طبی عملے اور اسپتالوں کے لیے بھی چند بنیادی اصول مریضوں کی حفاظت میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں:

    درست اور بروقت تشخیص کو یقینی بنانا، تاکہ علاج میں تاخیر یا غلط راستہ اختیار کرنے سے بچا جا سکے۔ ادویات کے تعامل اور غلط خوراک سے بچنے کے لیے سخت جانچ پڑتال کے نظام کو اپنانا۔ مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ واضح اور ہمدردانہ رابطہ رکھنا۔ طبی عملے کی مسلسل تربیت اور صلاحیت میں اضافہ کرنا۔ مختلف طبی مراکز کے درمیان مریض کی معلومات کی محفوظ اور مؤثر منتقلی کو یقینی بنانا۔

    ورلڈ پیشنٹ سیفٹی ڈے کیسے منایا جائے؟

    اس دن کو منانے کے کئی طریقے ہیں جو انفرادی اور اجتماعی سطح پر اپنائے جا سکتے ہیں:

    اسپتال اور طبی ادارے آگاہی سیمینار، ورکشاپس اور تربیتی سیشنز کا انعقاد کر سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر مریضوں کی حفاظت سے متعلق معلوماتی مواد شیئر کیا جا سکتا ہے۔ مقامی سطح پر عوامی مقامات یا عمارتوں کو نارنجی روشنیوں سے سجایا جا سکتا ہے۔ طبی طلبہ اور نوجوان ڈاکٹروں کے لیے مضمون نویسی یا مباحثوں کا اہتمام کیا جا سکتا ہے۔ مریضوں کی کہانیوں اور تجربات کو سامنے لا کر حقیقی مسائل کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔

    اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

    ورلڈ پیشنٹ سیفٹی ڈے کب منایا جاتا ہے؟ یہ دن ہر سال 17 ستمبر کو منایا جاتا ہے۔ 2026 میں یہ دن جمعرات کو پڑے گا اور یہ اس عالمی مہم کا ساتواں سال ہوگا۔

    2026 کا موضوع کیا ہے؟ اس سال کا موضوع “Safe care for noncommunicable diseases” یعنی غیر متعدی امراض کے لیے محفوظ علاج ہے، جبکہ نعرہ “Safe care for life!” رکھا گیا ہے۔

    نارنجی رنگ کیوں استعمال کیا جاتا ہے؟ نارنجی رنگ مریضوں کی حفاظت کی عالمی علامت سمجھا جاتا ہے، اور اسی لیے دنیا بھر کی مشہور عمارتیں اور یادگاریں اس دن نارنجی روشنیوں سے سجائی جاتی ہیں تاکہ عالمی یکجہتی ظاہر کی جا سکے۔

    غیر متعدی امراض میں کون سی بیماریاں شامل ہیں؟ دل کی بیماریاں، کینسر، ذیابیطس اور سانس کی دائمی بیماریاں (جیسے دمہ اور COPD) غیر متعدی امراض کی سب سے عام اقسام ہیں۔

    عام آدمی اس دن میں کیسے حصہ لے سکتا ہے؟ سوشل میڈیا پر آگاہی مواد شیئر کر کے، مقامی آگاہی تقریبات میں شرکت کر کے، یا اپنے اہلِ خانہ اور دوستوں کو دائمی بیماریوں کی بروقت تشخیص اور محفوظ علاج کی اہمیت سے آگاہ کر کے کوئی بھی شخص اس مہم کا حصہ بن سکتا ہے۔

    نتیجہ

    ورلڈ پیشنٹ سیفٹی ڈے 2026 محض ایک علامتی دن نہیں بلکہ ایک اہم یاد دہانی ہے کہ صحت کی دیکھ بھال کے دوران انسانی جان سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ اس سال کا موضوع “غیر متعدی امراض کے لیے محفوظ علاج” ہمیں یہ باور کراتا ہے کہ دائمی بیماریوں میں مبتلا کروڑوں افراد کو نہ صرف علاج بلکہ محفوظ اور معیاری علاج کی ضرورت ہے۔ یہ ذمہ داری صرف حکومتوں یا اسپتالوں کی نہیں، بلکہ ہر اس فرد کی ہے جو کسی نہ کسی طرح صحت کے نظام سے جڑا ہوا ہے — چاہے وہ مریض ہو، ڈاکٹر ہو، نرس ہو یا عام شہری۔ آئیے اس سال 17 ستمبر کو عزم کریں کہ ہم مریضوں کی حفاظت کو اپنی ترجیح بنائیں گے، کیونکہ “Safe care for life” — زندگی بھر کے لیے محفوظ علاج ہی اصل کامیابی ہے۔

Share:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top